![]() |
برطانیہ کا کہنا ہے کہ الجزائر کے صحرائی علاقے میں واقع گیس فیلڈ میں اسلام پسند شدت پسندوں کے ہاتھوں الجزائری اور غیر ملکی افراد کے یرغمال بنائے جانے کا بحران ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔ برطانوی دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ الجزائر کے شمالی علاقے میں واقع ’ان امیناس‘ گیس فیلڈ میں دہشتگردی کا واقعہ ابھی جاری ہے۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ ’حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور ہمیں مزید بری خبروں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھی الجزائر کے حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ فوج تاحال سارے علاقے کو محفوظ نہیں بنا سکی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کا بھی کہنا ہے کہ غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق گیس فیلڈ کے احاطے میں شدت پسندوں کے چھوٹے چھوٹے گروہ اور کچھ یرغمالی موجود ہیں۔ اس سے قبل یہ بات سامنے آئی تھی کہ گیس فیلڈ میں یرغمال بنائے جانے والے مقامی اور غیرملکیوں کی رہائی کے لیے جمعرات کو ہونے والے فوجی آپریشن کے بعد متعدد یرغمالی لاپتہ ہیں۔ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے بدھ کو اس گیس فیلڈ پر قبضہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی الجزائر کے ہمسایہ ملک مالی میں فرانسیسی مداخلت کا ردعمل ہے۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق اس آپریشن میں چار غیر ملکی یرغمالی ہلاک ہوئے ہیں۔ اسلام پسند شدت پسندوں نے بیالیس غیرملکیوں کو یرغمال بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ الجزائر کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی ایس نے مقامی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ کارروائی میں ہلاک ہونے والوں میں دو برطانوی اور دو فلپائنی شہری ہیں۔ ایک برطانوی اور ایک الجزائری شخص بدھ کو شدت پسندوں کےگیس فیلڈ پر حملے کے دوران ہلاک ہوا تھا۔ فوجی آپریشن کی تفصیلات بھی ابھی واضح نہیں اور اے پی ایس نے فوج کے حوالے سے بتایا ہے کہ آپریشن کے دوران گیس فیلڈ سے فرار ہونے والی دو گاڑیوں کو بھی تباہ کیا گیا ہے جن میں نامعلوم تعداد میں لوگ سوار تھے۔ شدت پسندوں نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ الجزائر کی فوج کو آپریشن میں فضائیہ کی مدد بھی حاصل تھی۔ شدت پسندوں کے ایک ترجمان نے موریطانیہ کے خبر رساں ادارے سے بات چیت میں فوجی کارروائی کے دوران ہیلی کاپٹروں کی فائرنگ سے پینتیس یرغمالیوں اور اپنے پندرہ ساتھیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سات غیرملکی یرغمالیوں کو ان کے قبضے سے چھڑوا لیا گیا ہے۔ جمعرات کو فوجی آپریشن کے نتیجے میں رہا کروائے جانے والوں کی کل تعداد کے بارے میں تاحال تصدیق نہیں ہو سکی ہے جبکہ برطانوی حکام نے اس آپریشن میں متعدد برطانوی شہریوں کی ہلاکتوں کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ الجزائر کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی ایس کے مطابق جمعرات کو ہونے والی فوجی کارروائی میں چھ سو الجزائری اور چار غیر ملکی یرغمالی رہا کروائے گئے۔ ان غیرملکیوں میں سکاٹ لینڈ کے دو اور فرانس اور کینیا کا ایک ایک شہری شامل ہے۔ آئرلینڈ کی حکومت نے اپنے ایک، امریکہ نے پانچ جبکہ چاپان نے تین شہریوں کی بازیابی کی تصدیق کی ہے تاہم جاپانی اور نارویجن حکام کا کہنا ہے کہ ان کے بالترتیب چودہ اور آٹھ شہری اب بھی لاپتہ ہیں۔ الجزائر کے وزیرِ اطلاعات محمد سعید بلیدی نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کی قابلِ ذکر تعداد ہلاک کر دی گئی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ ابھی ہلاکتوں کی صحیح تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ بی بی سی کے نک رابنسن کا کہنا ہے کہ بیس کے قریب یرغمالی آپریشن کے بعد لاپتہ ہیں اور برطانوی حکام اس آپریشن میں ہلاک ہونے والے برطانیوں کے بارے میں الجزائر کی حکومت کی طرف سے اطلاعات کے منتظر ہیں۔ الجزائر کے وزیر داخلہ داہو اولد کبلیا نے بتایا تھا کہ یہ شدت پسند الجزائری ہیں اور پچھلے سال تک القاعدہ سے تعلق رکھنے والی اسلامک مغرب نامی تنظیم کے کمانڈر مختار بالمختار کے زیر اثر کام کرتے تھے۔ اے ایف پی کے مطابق وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ شدت پسند لیبیا سے الجزائر میں داخل ہوئے تھے۔ یہ گیس فیلڈ لیبیا کی سرحد کے قریب ہی واقع ہے اور اسے برٹش پیٹرولیم کمپنی الجزائر کی سرکاری آئل کمپنی اور نارویجن کمپنی سٹیٹ آئل کے تعاون سے چلاتی ہے۔
http://rtilive.pk/urdu/detail/4844
Right to Information Pakistan Live, RTI Live, Information Pakistan, RTI online Research ORganization,breaking news pakistan,current news about pakistan,current news from pakistan,current news of pakistan,current news on pakistan,current news pakistan,google news pakistan,hot news of pakistan,karachi pakistan news,latest news about pakistan,latest news from pakistan,latest news in pakistan,latest news of pakistan,latest news on pakistan,latest news pakistan,latest news pakistan urdu,latest pakistan news,live news pakistan,news about pakistan,news from pakistan,news in pakistan,news of pakistan,news on pakistan,news pakistan,news pakistan latest,pakistan current news,pakistan flood news,pakistan floods news,pakistan karachi news,pakistan latest news,pakistan latest news online,pakistan live news,pakistan new news,pakistan news,pakistan news channel,pakistan news lahore,pakistan news latest,pakistan news live,pakistan news online,pakistan news paper,pakistan news papers,pakistan news service,pakistan news today,pakistan news tv,pakistan news urdu,pakistan news english,pakistan news video,pakistan political news,pakistan top news,pakistan urdu news,pakistan english news,pakistan world news,todaynews of pakistan,rti news of pakistan,rtilive news of pakistan,top news of pakistan,urdu news pakistan,english news pakistan,urdu pakistan news,english pakistan news,world news pakistan,www pakistan urdu news,www pakistan english news,www rtilive pk news,yahoo pakistan news,action news,breaking news,business news, current news,daily news,e news,entertainment news,google news,headline news,india news,pakistan news,international news,it news,latest news,live news,lacal news,national news,new news,news,news channel,news channels,news entertainment,news for kids,news for today,news live,news of the day,news of the world,news of today,news of world,news paper,news papers,news today,news video,news weather,online news,recent news,science news,news the,today news,top news,weather news,world news,news yahoo,yahoo news,Law & justice in Pakistan, Court cases, constitutional cases, chief justice of Pakistan, Justice and court news, criminal cases, Supreme court cases in Pakistan, Judgments of Supreme Court,Information Pakistan, information about Pakistan, Research about Pakistan, Online Research Center, Research organization Pakistan, Polls and Surveys, Polls and surveys about Pakistan, Right to Information Pakistan, RTI Pakistan, Research findings, findings, Entertainment, Reward Program, Customized productions, Top Story Pakistan, Politics Pakistan, Economy Pakistan, Society Pakisatn, Lifestyle Pakisatn, News Pakisatn, City News Pakisatn, Video Pakisatn, RTI Video, Global Fascilities,

No comments:
Post a Comment